Breaking News
یوپی حکومت کی وضاحت: مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار کرنے کی خبر جھوٹی قرار

لکھنؤ:اتر پردیش حکومت نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ریاست میں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔حکومت کے مطابق یہ خبر گمراہ کن اور بے بنیاد ہے اور اس سلسلے میں کوئی سرکاری فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔حکام نے واضح کیا کہ عوام ایسی غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع اور اعلانات پر ہی اعتماد کریں۔مزید برآں حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات کی تصدیق ضرور کریں تاکہ غلط معلومات سے بچا جا سکے۔

ملک بھر کے صوبائی صدور و نظمائے اعلیٰ کی شرکت، صدر جمعیۃ علما ء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں متعدد نئے پروجیکٹس کا روڈ میپ پیش ہوگا


جزائر انڈمان میں جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی مشورہ شروع؛ نوجوانوں کی تربیت، مثالی مسجد اور سالانہ کیلنڈر پر زور
ملک بھر کے صوبائی صدور و نظمائے اعلیٰ کی شرکت، صدر جمعیۃ علما ء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں متعدد نئے پروجیکٹس کا روڈ میپ پیش ہوگا

پورٹ بلیئر، 13 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ریاستی و علاقائی یونٹوں کے صدور و نظمائے اعلیٰ کا آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ آج جزائر انڈمان و نکوبار کے شہر سر وجے پورم، پورٹ بلیئر میں واقع ہوٹل اے آر پرائیڈ ریزیڈینسی میں باضابطہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ یہ سہ روزہ مرکزی اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم کی قیادت میں منعقد ہو رہا ہےجب کہ نظامت کے فرائض مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند انجام دے رہے ہیں۔ اس اہم موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا قاری محمد امین نائب صدر جمعیۃ علماء ہند سمیت کئی اہم مرکزی شحصیات بھی موجود ہیں ۔یہ مشورہ آئندہ مہینوں میں جمعیۃ علماء ہند کی تنظیمی سمت، سماجی کردار، نوجوانوں کی تربیت اور ملی خدمات کے عملی خاکے کو حتمی شکل دینے کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ آج شام 6 بجے پہلی نشست کا آغاز ہوا جس کی صدارت مفتی شرف الدین قاسمی صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار نے کی، جب کہ دوسری نشست کی صدارت مولانا سعید احمد صدر جمعیۃ علماء منی پور نے کی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر جمعیۃ علماء جزائر انڈمان و نکوبار مفتی شرف الدین قاسمی نے کہا کہ جزائر انڈمان ہندستان کی آزادی، قربانی اور استقامت کی زندہ تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں کالا پانی کی صعوبتوں نے مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بنا دیا۔ انہوں نے اس تاریخی مقام پر مرکزی ششماہی مشورہ کے انعقاد کو نہایت بابرکت اور بامعنی قرار دیا اور آنے والوں مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ ملک کی دینی، ملی، تعلیمی، رفاہی اور آئینی خدمات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور آج بھی تنظیم ملک بھر میں عوامی رہنمائی، سماجی اصلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔
اس کے بعد مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جس کے بعد مختلف ریاستی یونٹوں کی کارگزاریوں کی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ صدور و نظمائے اعلیٰ حضرات نے اپنے اپنے صوبوں کی تنظیمی پیش رفت، تعلیمی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور ملی خدمات کی عددی رپورٹ پیش کی۔
دیر شام دوسری نشست میںصدر جمعیۃ علماء ہند نے جمعیۃ یوتھ کلب کی موجودہ صورت حال اور آئندہ کے اقدامات پر خصوصی گفتگو کی۔ اس موقع پر نوجوانوں کی فکری تربیت، قیادت سازی، سماجی خدمت اور جمعیۃ کے مشن سے مؤثر وابستگی پر زور دیا گیا۔
اسی نشست میں ’’مثالی مسجد‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد عمر قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوبی ہند نے رہنما پریزنٹیشن پیش کی جس میں مسجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، تعلیمی بیداری، اخلاقی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنانے کے حوالے سے جامع نکات پیش کیے گئے۔
آئندہ کی نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کی مقامی و ضلعی یونٹوں سے لے کر صوبائی یونٹوں کے لیے میٹنگوں کا سالانہ کیلنڈر، نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس، اصلاحِ معاشرہ پروگرام، بالخصوص ائمہ کی ٹریننگ، میرج کاؤنسلنگ، رفیق پروجیکٹ، خیر پروجیکٹ، سیرت کوئز پر تفصیلی گفتگو اور ممکنہ فیصلے متوقع ہیں، جس سے جمعیۃ علماء ہند کی آئندہ سرگرمیوں کی سمت واضح ہوگی۔
آج شام نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس کی سعادت مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء یوپی اور ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کو حاصل ہوئی۔ ازیں قبل آج دوپہر کے وقت شرکاء کی آمد کے بعد نمازِ ظہر اور ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا، جس کے بعد معزز مندوبین کے لیے تاریخی راس جزیرہ (Ross Island) کی زیارت کا خصوصی پروگرام رکھا گیا۔ شرکاء نے اس موقع پر جزائر انڈمان کی تاریخی اہمیت، آزادی کی جدوجہد سے وابستہ یادگاروں اور قدرتی حسن کا مشاہدہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدیر محترم اس پر یس ریلیز کو شائع فرما کر شکر گزار کریں

نیاز احمد فارو قی
سکریٹری جمعیۃ علماء ہند

بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت

نئی دہلی:
ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نئی ہدایات کے تحت اب 10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بالخصوص یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی بڑی رقم کی منتقلی پر اضافی سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض اوقات لین دین مکمل ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کو روکنا اور صارفین کے پیسے کو محفوظ بنانا ہے۔
ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی رقم کی منتقلی کے دوران پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیاں اگرچہ سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ احتیاط اور آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔

: وضاحت
یہ ہدایات سیکیورٹی اقدامات کے تحت بتائی جا رہی ہیں، تفصیلی سرکاری اعلان کی صورت میں مزید اپڈیٹ کیا جائے گا۔

بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت

نئی دہلی:ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نئی ہدایات کے تحت اب 10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق بالخصوص یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی بڑی رقم کی منتقلی پر اضافی سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض اوقات لین دین مکمل ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کو روکنا اور صارفین کے پیسے کو محفوظ بنانا ہے۔ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی رقم کی منتقلی کے دوران پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں۔ڈیجیٹل ادائیگیاں اگرچہ سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ احتیاط اور آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔

وضاحت:یہ ہدایات سیکیورٹی اقدامات کے تحت بتائی جا رہی ہیں، تفصیلی سرکاری اعلان کی صورت میں مزید اپڈیٹ کیا جائے گا۔

مبینہ الزامات کے بعد ایم آئی ایم نے اتحاد ختم کیا، بنگال میں تنہا انتخاب لڑنے کا اعلان

کولکاتا:ہمایوں کبیر سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور مبینہ خفیہ معاہدے کے الزامات کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم نے مغربی بنگال میں آئندہ انتخابات تنہا لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو حالیہ تنازع اور الزامات کے تناظر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ ہمایوں کبیر سے متعلق ایک وائرل ویڈیو میں ایک ہزار کروڑ روپے کے مبینہ معاہدے اور خفیہ سیاسی روابط کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بنگال کی سیاست میں نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

وضاحت:یہ خبر وائرل ویڈیوز اور سیاسی بیانات پر مبنی ہے، جن کی مکمل تصدیق ہونا باقی ہے۔

ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، آبنائے ہرمز میں مبینہ فیس وصولی فوری روکنے کا مطالبہ

واشنگٹن:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی مبینہ سرگرمیوں اور تیل بردار جہازوں سے فیس وصولی کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس طرح کی سرگرمیوں کو بند کرے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات عالمی تجارت اور سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔تاہم ایران کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

ہمایوں کبیر کی مبینہ ویڈیو وائرل، خفیہ سیاسی ڈیل کے دعووں پر ہلچل

کولکاتا:سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ہمایوں کبیر نامی شخص کو ایک مبینہ سیاسی گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں ہمایوں کبیر نے ایک سیاسی جماعت کے نمائندے کے ساتھ مبینہ طور پر کسی خفیہ ڈیل اور انتخابی حکمتِ عملی پر گفتگو کی ہے۔ ویڈیو میں بعض حساس اور سنگین نوعیت کے بیانات بھی منسوب کیے جا رہے ہیں، جن میں ووٹروں کو متاثر کرنے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے حوالے سے دعوے شامل ہیں۔تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی متعلقہ افراد یا سیاسی جماعت کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری کیا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے مکمل تحقیق اور مستند معلومات کا انتظار ضروری ہے، کیونکہ انتخابی ماحول میں اس طرح کی ویڈیوز اور دعوے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔

وضاحت:یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق دعوؤں پر مبنی ہے، جس کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

سنجے سنگھ کا بیان، آسام کے وزیر اعلیٰ پر تنقید

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما کے حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے سنگھ نے کہا کہ آسام میں جاری انتخابی ماحول کے دوران بعض ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو سماجی ہم آہنگی کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خاص طبقے کے خلاف اس طرح کی اپیلیں قابلِ تشویش ہیں۔سنجے سنگھ نے اپنے بیان میں عوام سے سوال کیا کہ اگر کسی طبقے کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ اختیار کیا جائے تو اس کے اثرات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔تاہم اس معاملے پر وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما یا ان کے دفتر کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

وضاحت:یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور بیانات پر مبنی ہے، جن پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔

مسجد اقصیٰ میں اذان کی آواز دوبارہ بلند ہونے کی رپورٹس، صورتحال پر نظر

القدس:مسجد اقصیٰ میں تقریباً 40 دن بعد اذان کی آواز بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع میں نمایاں طور پر شیئر کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق فروری کے اواخر سے مسجد اقصیٰ میں نماز اور عبادات سے متعلق بعض پابندیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا، تاہم ان تفصیلات کی مکمل اور باضابطہ تصدیق مختلف ذرائع سے مختلف انداز میں سامنے آ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت کو بعض حلقے معمولات کی جزوی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے زمینی صورتحال اور سرکاری موقف کی مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق خبریں نہایت حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے مستند معلومات اور سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہے۔

آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں آج ووٹنگ جاری، عوام میں جوش و خروش

نئی دہلی:بھارت کی ریاستوں آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پڈوچیری میں آج انتخابات کے تحت ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں عوام بڑی تعداد میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق پولنگ صبح سے پرامن انداز میں جاری ہے اور تمام مراکز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق حساس علاقوں میں اضافی فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ کئی مقامات پر ووٹروں کی لمبی قطاریں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ خواتین، بزرگ اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوگا، جبکہ نتائج کا اعلان مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔

نوٹ:ووٹنگ کی شرح اور دیگر تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔