Breaking News
ایران کے وزیرِ صنعت کا بیان: پیداوار جاری رکھنے کے لیے بحالی منصوبہ تیار

تہران (بین الاقوامی ڈیسک):ایران کے وزیرِ صنعت نے جاری کشیدگی کے درمیان ملک کی صنعتی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے بحالی (Reconstruction) کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں اور تنازع کے باعث صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود حکومت نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ پیداوار کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ وزیرِ صنعت نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ فیکٹریاں اور پیداواری یونٹس جلد از جلد مکمل فعالیت کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران پہلے بھی جنگی حالات میں صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے اور پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی پیکجز اور سپورٹ پروگرام متعارف کرا چکا ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق، حالیہ تنازع میں ایران کی دفاعی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد اس کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرنا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی منصوبوں کے ذریعے ملک کی معیشت اور صنعتی نظام کو مستحکم رکھا جائے گا۔

ویسٹ ایشیا بحران پر آل پارٹی میٹنگ، سفارتکاری اور توانائی تیاریوں پر غور

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ آل پارٹی میٹنگ میں ویسٹ ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں پہلا جغرافیائی سیاست اور سفارتکاری جبکہ دوسرا توانائی سے متعلق امور تھا۔ حکومت نے اس موقع پر مختلف ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔سسمت پاترا کے مطابق توانائی کے شعبے میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے اور وضاحتیں طلب کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ ویسٹ ایشیا کے موجودہ تنازع میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور اس کی تیاری کس سطح پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ بھارت کو آئندہ بھی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں خارجہ امور، توانائی، تعلیم اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں سمیت مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی، اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مشترکہ رائے سامنے آئی کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے اور معمولات زندگی بحال ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی درجہ نہیں ملے گا

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی شخص کو شیڈولڈ کاسٹ (SC) کا درجہ حاصل نہیں رہتا۔ عدالت نے 24 مارچ کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس اصول کی توثیق کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کے مطابق صرف ہندو، سکھ اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کو ہی شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ درجہ فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس قانون میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے، اور جیسے ہی کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے، وہ ایس سی کے تحت ملنے والے ریزرویشن اور دیگر قانونی تحفظات سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں ایک شخص، جو عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا، نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ملزمان نے اس کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پہلے ہی مقدمہ خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار طویل عرصے سے عیسائی مذہب پر عمل کر رہا تھا اور اس نے اپنے اصل مذہب میں واپسی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا، اس لیے وہ ایس سی کے فوائد حاصل کرنے کا اہل نہیں ہے۔

راگھو چڈھا کی راجیہ سبھا میں آواز: پری پیڈ ڈیٹا پلانز میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکنِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں پری پیڈ موبائل ریچارج پلانز میں روزانہ ڈیٹا کی حد کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے صارفین کے حق میں اہم مطالبات پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں روزانہ 1.5GB، 2GB یا 3GB ڈیٹا والے پلان فراہم کرتی ہیں، جو ہر 24 گھنٹے بعد ری سیٹ ہو جاتے ہیں۔ اس نظام میں صارفین کی مکمل ادائیگی کے باوجود بچا ہوا ڈیٹا آدھی رات کو ختم ہو جاتا ہے، جو صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔راگھو چڈھا نے کہا:”کوئی ریفنڈ نہیں، کوئی ٹرانسفر نہیں، بس ڈیٹا ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے — یا تو ڈیٹا جلدی استعمال کریں، ورنہ آدھی رات تک ختم ہو جائے گا۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچا ہوا ڈیٹا ضائع ہونے کے بجائے اگلے دن یا اگلے ریچارج سائیکل میں منتقل ہونا چاہیے۔

اہم مطالبات1. ڈیٹا رول اوور:تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو چاہیے کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا اگلے دن یا اگلے سائیکل میں شامل کریں۔2. رقم میں ایڈجسٹمنٹ:اگر صارف کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے تو اگلے ریچارج میں رعایت یا ایڈجسٹمنٹ دی جائے۔3. ڈیٹا ٹرانسفر کی سہولت:صارفین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنا بچا ہوا ڈیٹا دوسروں کو منتقل کر سکیں، جیسے مالی لین دین میں ہوتا ہے۔راگھو چڈھا نے کہا کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا کو صارف کی ڈیجیٹل ملکیت تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس کا فائدہ بھی صارف کو ملنا چاہیے۔انہوں نے اس سے قبل 28 دن کے ریچارج سسٹم پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طریقہ کار سے صارفین کو سال میں 12 کے بجائے 13 بار ریچارج کرنا پڑتا ہے، جو اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ ریچارج ختم ہونے پر کال اور ایس ایم ایس سروس بند کرنا بھی صارفین کے لیے نقصان دہ ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو سادہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

یکم اپریل 2026 سے PAN کارڈ کے قواعد میں بڑی تبدیلی، آدھار پر مبنی عمل ختم

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)
بھارت میں یکم اپریل 2026 سے PAN (Permanent Account Number) کارڈ سے متعلق نئے قواعد نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت صرف آدھار پر مبنی درخواست کا عمل ختم کر دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے اصولوں کے تحت PAN کارڈ کے لیے درخواست دینے یا اس میں ترمیم کروانے کے عمل میں مزید دستاویزات درکار ہوں گی، جس سے پورا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور جامع ہو جائے گا۔
یہ تبدیلیاں کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے بعد سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق درخواست کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کی PAN سے متعلق کوئی درخواست زیر التوا ہے تو وہ مقررہ وقت سے پہلے اسے مکمل کر لیں، تاکہ نئے قواعد کے تحت اضافی دستاویزی تقاضوں سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد PAN نظام کو مزید شفاف، محفوظ اور منظم بنانا ہے، تاکہ مالیاتی امور میں درستگی اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔

کم جونگ اُن دوبارہ اسٹیٹ افیئرز کمیشن کے صدر مقرر

پیانگ یانگ (بین الاقوامی ڈیسک)

شمالی کوریا کے رہنما کو ایک بار پھر اسٹیٹ افیئرز کمیشن کا صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ان کی مسلسل تیسری مدت ہے۔رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ افیئرز کمیشن، جو 2016 میں قائم کیا گیا تھا، ملک کا سب سے اعلیٰ پالیسی ساز ادارہ ہے۔ کم جونگ اُن کی دوبارہ تقرری اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی قیادت اور پالیسی سازی میں ان کی گرفت بدستور مضبوط ہے۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی موجودہ سیاسی سمت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور قیادت میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

ایران پر فوری حملہ مؤخر، ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آگیا

واشنگٹن/نئی دہلی (بین الاقوامی ڈیسک)

سابق امریکی صدر نے ایران سے متعلق ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوری فوجی کارروائی کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، جاری کشیدگی کے دوران اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس بنی ہوئی ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حالات کو مزید بگڑنے سے روکنا اور ممکنہ طور پر سفارتی راستوں کو موقع فراہم کرنا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی فیصلے کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے آنے والے دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا پارلیمنٹ میں خطاب، عالمی کشیدگی پر تشویش کا اظہار

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے عالمی حالات خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے ممکنہ اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اس لیے ملک کو ہر سطح پر پیشگی تیاری کرنی ہوگی۔وزیرِ اعظم نے کورونا وبا کے دوران درپیش چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملک نے اس مشکل وقت میں متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر بھی سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بدلتے ہوئے عالمی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

عید الفطر اتحاد، رواداری اور امن کا پیغام دیتی ہے: مولانا محمد قاسم نوری قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر نے اپنی پریس خطاب میں عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید کا اصل پیغام اتحاد و اتفاق، ہمدردی، ایثار و قربانی اور رواداری ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 20 اور 21 مارچ کو پوری دنیا میں عید الفطر منائی گئی، جس کے موقع پر عالم اسلام نے نہ صرف عبادات کا اہتمام کیا بلکہ دنیا بھر میں امن و امان، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعلیٰ ظرفی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حالات اور چیلنجز کے باوجود مسلمانوں نے پرامن انداز میں عید منائی اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ اسلام اور اس کے ماننے والے نہ کسی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور نہ ہی کسی کی عبادتگاہوں کے سامنے جا کر اشتعال انگیزی یا مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے اتم نگر واقعہ کے بعد بعض فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم دہلی پولیس کی مستعدی، بروقت کارروائی اور مسلسل کوششوں نے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اس موقع پر دہلی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے میں ان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

دینِ جعفری بعنوان فقہ جعفری

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری

نیشنل اردو ٹائمز (نئی دہلی) 1447 شوال 03 ھ 23 مارچ 2026ء گذشتہ مضمون بعض فریب خوردہ برادران کو شاق گذرا، ان کو حیرت ہے کہ چار فقہ کا قائل پانچویں فقہ سے کیوں متوحش ہوا، یہ سنگین غلط فہمی ہے یا دانستہ مغالطہ، پانچویں فقہ کے نام پر آپ جداگانہ دین رائج کر رہے ہیں، ایک اور فقہ پر اشکال کے معنی نہیں، ہم تو غیر مقلدین سے کہتے ہیں کہ آپ ایک رائے قائم کر لیں، فقہ غیر مقلدیت پر ہمیں اعتراض نہیں ہوگا، یہ منہ مارنا خطرناک ہے، ہر جائیت میں مذہبی انتظام کا خون ہے، انارکی پھیلتی ہے، آٹو ڈرائیور بھی اجتہاد کی بات کرتا ہے۔فقہ در اصل قرآن وحدیث سے ماخوذ ہوتا ہے، بخاری اور مسلم آپ کے نزدیک غیر معتبر تھیں، ناچار کتبِ احادیث وضع ہوئیں، بخاری و مسلم کو سامنے رکھ کر مطلب کا مواد چنا گیا اور ائمۂ اہل بیت کے ناموں پر تیار سندیں پہنا دی گئیں، اضافی ضروریاتِ شیعیت میں متن اور سند دونوں سطح پر محنت ہوئی، دیانت سے فرمائیں کہ یہ فقہ ہے یا دین؟ اگر یہ فقہ ہے تو دین کیا ہے؟ اخلاقیات وغیرہ مشترکہ مضامین کی یکسانیت کوئی دلیل نہیں، یہ خوبیاں ادیان باطلہ میں بھی ہیں۔فقہ جعفری کے نام پر آپ دینِ جعفری رکھتے ہیں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کی تاریخ تک الگ ہے، غیر جانبدار مورخ پہلے تاریخ بیان کرتا ہے، جسے مسلمانوں سمیت پوری دنیا جانتی اور مانتی ہے، پھر شیعی تاریخ کے نام پر خرافات نقل کرتا ہے، یہ ایران اور اسلام میں فرق کی حد ہے، ہمارے یہاں شیعوں کے تعلق سے یہ بحث ہوتی ہے کہ وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں یا نہیں، دیوبندی فتاوی کفر کے فتوے میں جو تین چار شرائط رکھتے ہیں ان میں تحریف قرآن شامل ہے، کفر کے فتوے میں قانونی اور معاشرتی مسائل ہیں؛ اس لیے بھی دیوبندی قلم احتیاط برتتا ہے۔غالی شیعہ جذباتی ہیں، تحریف قرآن کے عقیدتی مضمرات کو سمجھنے کے اہل نہیں، دانشور شیعہ جانتے ہیں کہ تحریف والی بات بہت بڑی سرخ لکیر ہو جائے گی، انھوں نے مطلب برآری کے لیے نئی راہ دریافت کی، جب معنوی تحریف کافی ہو جاتی ہے تو تحریف کا الزام کیوں ڈھوئیں؟ اب قرآن بھر میں نور، ہدایت، رحمت، نعمت؛ غرض جو بھی ذکر خیر ہے سب کا مصداق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو گئے، قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی مرکزیت سے نکال کر اہل بیت بیسڈ بنا دیا گیا، جذباتی شیعہ جو اضافی پارے لیے پھرتے تھے عیار شیعوں نے وہ پارے تشریح کے راستے سے داخل کردیے، اب یہی سنیوں والا قرآن اہل بیت محدود ورژن ہو گیا۔غزہ قتلِ عام کے دوران میں نے ایران کے حق میں کئی طاقت ور مضامین لکھے، جو اپنے حلقے میں ناگوار تھے؛ مگر ان میں یہ وضاحت تھی کہ سیاسی اتحاد مقصود ہے، غزہ تنظیم کی صواب دید وجہِ تقویت تھی؛ لیکن ایران نے غزہ میں وفا نہیں کی، میرا خیال تھا کہ ایران نے وسعت بھر تعاون کیا، جاری جنگ نے بتایا کہ وہ تقیہ کر رہے تھے، موجودہ ایرانی کارروائیاں کہتی ہیں کہ ایران واقعی علاقائی سپر پاور تھا، اس نے غزہ تعاون اپنے مقاصد کی حد تک محدود رکھا، ایران اسی وقت منہ توڑ جواب دے سکتا تھا۔اگر آپ کو دامن چھڑانا یا بچانا تھا تو ان کو امیدیں کیوں دلائیں؟ غزہ خاکستر ہو گیا اور آپ اسرائیل کو جلانے کا سامان بدستور دبائے رہے، اقصی کشتی میں ہم سواری کے دعوے وقتِ ثبوت کاغذی نکلے، ڈوبنے کے لیے ان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، غزہ آر پار آپ کے لیے عز وشرف کا موقع تھا، آپ کے ساتھ آج بھی وہی ہوگا، امریکائیل آپ کو زندہ رہنے نہیں دیکھیں گے، آپ نے جو راستہ چنا ہے اس میں فیصلہ ہی ہوتا ہے، آج شام کو اڑتالیس گھنٹوں کی ٹرمپ مہلت پوری ہو رہی ہے، وہ نئے پلان میں نیوکلیئر کی طرف بھی جاسکتا ہے۔اگر آپ کا چراغ سحر کو نہیں پہنچا ہے، آپ تنکوں سے معلق نہیں ہیں اور مہینوں استقامت کے دعوے درست ہیں تو پھر نیوکلیئر استعمال حتمی سمجھیں، آپ کے لیے لیٹ گو کا آپشن نہیں ہے؛ لیکن غزہ کے ٹائم دو ارب مسلمان آپ کے شریک حال ہوتے اور کوئی معجزہ بھی ہو سکتا تھا، اب تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ آپ اقصی کے پاسداران میں نہیں تھے، آپ امت مسلمہ کے پیالے کے تین یا چار مدعیان میں سے ایک ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دور آخر میں اقوام عالم مسلمانوں پر اس طرح ہجوم کریں گی، جیسے بھوکے لوگ کھانے کے پیالے پر جھپٹتے ہیں، افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں نے ثابت کردیا کہ وہ مسلم وجود اور مشرق وسطی پیالے پر حملہ آور اقوام میں سے ایک ہے۔